جہڑا کوئی وی اللہ سائیں نال لوکاں کوں وی عبادت لائق سمجھے یا انھاں دی عبادت کرے یا اللہ سائیں دی ذات تے صفات وچ کہیں ٻئے کو شریک سمجھے اوں کوں مشرک آہدے ہن۔
جو شخص اللہ تعالٰیٰ کے ساتھ اور لوگوں کو بھی عبادت کے لائق سمجھے یا ان کی عبادت کرے یا اللہ تعالٰیٰ کی ذات و صفات میں کسی اور کو بھی شریک جانے اسے مشرک کہتے ہیں۔
اسلامی عقائد دے مطابق کافر تے مشرک نال اللہ سائیں ہمیشہ ناراض رہندا ہے تے مرݨ دے بعد انھاں کوں ہمیشہ جہنم وچ رہوݨاں پوندا ہے۔ کافر اتے مشرک جنت وچ کائنی ون٘ڄ سڳدے بلکہ ایہ ہمیشہ جہنم وچ راہسن۔
اسلامی عقائد کے مطابق کافر اور مشرک سے اللہ تعالٰیٰ ہمیشہ ناراض رہتا ہے اور مرنے کے بعد انہیں ہمیشہ جہنم میں رہنا پڑتا ہے۔ کافر اور مشرک ہرگز جنت میں نہیں جا سکتے بلکہ یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
آپ دا ناں عائشہ ہِے۔ خطاب اُم المومنین ہِے۔ القاب صدیقہ، حبیبۃ الرسول، المُبرۃ، المُوَفقہ، طیبہ، حبیبۃ المصطفیٰ اَتے حمیراء ہِن۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم نے بنت الصدیق نال وی آپ کُوں خطاب فرمایا ہِے۔[1] [2]اِین٘دے تُوں انج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم نے آپ کُوں "یَا عَائشَۃ" دے ناں نال وی خطاب فرمایا ہِے۔[3]
آپ کا نام عائشہ ہے۔ خطاب اُم المومنین ہے۔ القاب صدیقہ، حبیبۃ الرسول، المُبرۃ، المُوَفقہ، طیبہ، حبیبۃ المصطفیٰ اور حمیراء ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی آپ کو خطاب فرمایا ہے ۔[3][4] علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یَا عَائشُۃ کے نام سے بھی خطاب فرمایا ہے۔[5]
اُم المومنین عائشہ بنت ابی بکر اسم حضرت عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) اُم المومنین، حبیبۃ الرسول، حبیبۃ المصطفیٰ، حبیبۃ الحبیب، المُبرۃ، طیبہ، صدیقہ، مُوَفقہ، اُم عبداللہ، حمیراء،[1][2][3] ولادت ماہِ شوال 9 سال قبل ہجرت/ ماہِ جولائی 614ء [3] مکہ مکرمہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب وفات منگل 17 رمضان 58ھ/ 13 جولائی 678ء [4] (64 سال شمسی، 67 سال قمری ) حجرہ عائشہ، مسجد نبوی، مدینہ منورہ، حجاز، خلافت امویہ، موجودہ سعودی عرب محترم در اسلام مزار جنت البقیع، مدینہ منورہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب رموز 2210 احادیث، 174 متفق علیہ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) 54 صحیح بخاری میں منفرد، 69 صحیح مسلم میں منفرد۔ نسب • والد: حضرت ابوبکر صدیق والدہ: حضرت ام رومان بہن اور بھائی: عبد الرحمن بن ابی بکر، عبداللہ بن ابی بکر، محمد بن ابی بکر، اسماء بنت ابی بکر، ام کلثوم بنت ابی بکر شوہر: پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (619ء — 8 جون 632ء)
{{{نام}}} ولادت ماہِ شوال 9 سال قبل ہجرت/ ماہِ جولائی 614ء [1] مکہ مکرمہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب وفات منگل 17 رمضان 58ھ/ 13 جولائی 678ء [2] (64 سال شمسی، 67 سال قمری ) حجرہ عائشہ، مسجد نبوی، مدینہ منورہ، حجاز، خلافت امویہ، موجودہ سعودی عرب محترم در اسلام مزار جنت البقیع، مدینہ منورہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب رموز 2210 احادیث، 174 متفق علیہ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) 54 صحیح بخاری میں منفرد، 69 صحیح مسلم میں منفرد۔ نسب • والد: حضرت ابوبکر صدیق والدہ: حضرت ام رومان بہن اور بھائی: عبد الرحمن بن ابی بکر، عبداللہ بن ابی بکر، محمد بن ابی بکر، اسماء بنت ابی بکر، ام کلثوم بنت ابی بکر شوہر: پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (619ء — 8 جون 632ء)
ٻاہرلے جوڑ https://www.dawateislami.net/bookslibrary/373/page/26 https://m.urdupoint.com/women/article/khanwada-e-rasool/ummul-mumineen-hazrat-ayesha-siddiqua-razi-allah-taala-anha-1123.html http://www.javedahmadghamidi.com/ishraq/view/hazrat-asma-bint-e-abu-bakar-razi-allah-anhaa http://www.urduencyclopedia.org/general/index.php?title=حضرت_اسماء_بنت_ابی_بکر_رضی_اللہ_تعالی_عنہاآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ urduencyclopedia.org [Error: unknown archive URL] http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=62821
== بیرونی روابط ==* * * [مردہ ربط]* * آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ urduencyclopedia.org [Error: unknown archive URL]*
عائشہ بنت ابی بکر (ابو بکر دی دِھی عائشہ) (رضی اللہ عنہا) (ڄَمَّݨ دی تَرِیخ: ٦١٤ء – جھوک لݙا ڳئیں: ١٣ جولائی ٦٧٨ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم دی ذال ہَن۔ آپ کُوں اُم المومنین دے خطاب نال یاد کِیتا وین٘دا ہِے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم دے بعد عہدِ خلفائے راشدین وِچ آپ دی شخصیّت ٻہوں اُبھرویں ݙِسدی ہِے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم دے جھوک لݙا ون٘ڄݨ دے بعد ٤٧ ورھیاں تئیں جین٘دے ریہے اَتے اِیہ سارا اُوہ ویلا ہِے جین٘دے وِچ ابتدائی مسلم فتوحات تھئیاں، اَنجو انج مُلخ، مملکتِ اسلامیہ وِچ داخل تھئے۔ علم الحدیث وِچ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ دی روایتاں دے بعد سبھ تُوں وَدھ حدیثاں دے روایتاں دا ذخیرہ آپ نال اِی روایت کِیتا ڳیا ہِے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم اَتے عہدِ خلفائے راشدین دی عینی شاہد وی ہَن اَتے ٻِیا اِیہ جو آپ نے خلافتِ اُمویہ دے ابتدائی ١٧ ورھیے وی ݙِٹّھے ہَن۔ سنہ ٦٧٨ء وِچ آپ مدینہ منورہ وِچ جھوک لݙا ڳئے ہَن۔ آپ دے مناقب تے فضائل ٻہوں وَدھ ہِن جِنّھاں نال آپ دی وݙائی اَتے آن بان جلالت مسلم زنانیاں اُتے واضح ہِے۔
سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔
ناں تے القاب
نام و القاب
آپ دی کنیت اُمِ عبد اللہ ہِے۔ عرب وِچ کنیت اشراف دی شرافت دا نشان ہئی اَتے کیوں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دی کوئی اولاد کائے ناں ہئی، اِیں کِیتے کنیت وی ناں ہئی۔ ہِک واری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم نال آس نال ارداس کرݨ لڳے جو ٻئے زنانیاں نے تاں اپݨی پِچھوکڑ اَل دے ناں اُتے اپݨی اپݨی کنیّت رکھ گِھدّی، میں اپݨی کنیت کین٘دے ناں اُتّے رکّھاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم نے فرمایا: اپݨے بھݨین٘ڄے "عبد اللہ" دے ناں اُتے [1] [2] جیڑھے آپ دی بھیݨ حضرت اسماء بنت ابی بکر اَتے زبیر ابن عوام دے پُتر ہَن۔
آپ کی کنیت اُمِ عبد اللہ ہے۔ عرب میں کنیت اشراف کی شرافت کا نشان تھا اور چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی اولاد نہ تھی، اِس لیے کنیت بھی نہ تھی۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ازراہِ حسرت عرض کرنے لگیں کہ اور خواتین نے تو اپنی سابقہ اولادوں کے نام پر اپنی اپنی کنیت رکھ لی، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟۔ فرمایا: اپنے بھانجے عبد اللہ کے نام پر [6][7] جو آپ کی بہن حضرت اسماء بنت ابی بکر اور زبیر ابن عوام کے بیٹے تھے۔
کھیݙ وچ مگن ہک ٻال
کھیل کود میں مصروف ایک کم عمر بچہ۔
ٻالاں دی نشو و نما وچ حیاتیاتی، نفسیاتی تے جذباتی تندیلیاں شامل ہن۔ جہڑیاں انسان دے ڄمݨ کنوں گھن کراہیں اوندے جوان تھیوݨ دے دور تائیں جاری رہندیاں ہن۔
بچوں کی نشو و نما میں حیاتیاتی، نفسیاتی اور جذباتی تبدیلیاں شامل ہیں جو انسانوں کی پیدائش سے لے کر جواں سالی کے دور کے ختم تک جاری رہتی ہیں، جیسا کہ افراد آزانہ طور نشو و نما کرتے ہیں۔ یہ ایک مسلسل کا طرز عمل ہے جس کے تسلسل کی قیاس آرائی تو لگائی جا سکتی ہے، تاہم یہ سلسلہ ہر لڑکے میں منفرد ہوتا ہے۔ یہ ایک ہی شرح سے آگے نہیں بڑھتی اور ہر مرحلہ اپنے سے سابقہ نشوونمااتی تجربے سے متاثر ہوتا ہے۔ چوں کہ یہ نشوونمااتی تبدیلیاں وراثیاتی عوامل اور ماقبل ولادت زندگی سے کافی متاثر ہوتے ہیں، وراثیات اور ماقبل ولادت نشو و نما کو عمومًا بچوں کی نشو و نما کے مطالعے میں شامل کیا جاتا ہے۔ متعلقہ اصطلاحات میں نشوونمااتی نفسیات، جو مکمل حین حیات کی نشو و نما کا حوالہ دیتی ہے اور طفلیات، جو طب کو وہ شاخ ہے جو بچوں کی دیکھ ریکھ سے تعلق رکھتی ہے۔ نشوونمااتی تبدیلیاں وراثیاتی گرفت والے طریقوں کا نتیجہ ہو سکتے ہیں جسے نشوونمااتی حیاتیات کہا جاتا ہے،[1] یا پھر یہ ماحولیاتی عوامل اور سیکھنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے، مگر زیادہ تر اس ان دونوں کی تال میل ہوتی ہے۔ یہ انسانی فطرت کی وجہ سے بھی ممکن ہے اور اس میں انسانوں کی ماحول سے سیکھنے کی عادت کا بھی دخل ممکن ہے۔
آسو بیل آہدا ہے جو ایہ اینجہا علم ہے جیندا تعلق کمرہ جماعت وچ تعلیم دی حقیقت، تعلیم تے اثر کرݨ آلے عوامل تے ایں کنوں حاصل تھیوݨ آلے نتیجے دے جائزے نال ہے۔
آسو بیل کہتا ہے کہ یہ ایک ایسا علم ہے جس کا تعلق کمرہ جماعت میں تعلم کی حقیقت ، اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل اور اس سے حاصل شدہ نتائج کے جائزے سے ہے
ماء پیؤ کہیں وی ٻال دی حیاتی وچ ٻہوں وݙا کردار ادا کریندن۔ اتے اوں کوں وسیب نال جوڑیندن تے اوندی ذاتی نشوونما وچ مدد کریندن۔
ماں باپ کسی بھی بچے کی زندگی میں ایک اہم کردار انجام دیتے ہیں اور اس کے سماج سے جڑنے اور اس کی ذاتی نشو و نما میں مدد کرتے ہیں۔ دونوں ماں باپ کا ایک جگہ جمع ہونا ایک بچے کی زندگی میں استحکام لا سکتا ہے اور اس کی وجہ سے صحت مندانہ نشو و نما کی حوصلہ افزائی ممکن ہے۔[4] ایک اور اثر انگیز بات جو بچوں کی نشو و نما میں معاون وہ ماں باپ کی دیکھ ریکھ کی کیفیت ہے۔ بچوں کی دیکھ ریکھ کے پروگرام بچوں کی نشو و نما کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ بچے میں جینیاتی طور پر بھی والدین کی خصوصیات منتقل ھوتی ہیں جو ان کی جسمانی ذہنی جزباتی اور نفسیاتی نشو و نما میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشو و نما کا مطالعہ –
سونیا رضوی (ڄمّݨ دی تَرِیخ: 24 اپریل 1980ء) جیڑھی آپݨے فلمی ناں سونیا جہاں نال مشہور ہِے۔ ہِک پاکستانی فلمی اداکارہ ہِے۔ جیڑھے بݨیادی طور تے اُردو اَتے ہندی زبان دی فلماں وِچ کَم کرین٘دے ہِن۔ سونیا جہاں نے ٻہوں سارے پاکستانی نَاٹکاں، اشتہاراں اَتے بھارتی بالی ووڈ فلماں وِچ کَم کِیتا۔ سونیا جہاں مہان٘دری ڳائیکا نور جہاں اَتے فلمساز شوکت حسین رضوی دی پُوتری ہِے۔ اِنّھاں کُوں ٻہوں سارے فِلماں وِچ معاون کردار ادا کرݨ کِیتے سُن٘ڄاݨاں وین٘دا ہِے۔ اِنّھاں وِچ فلم 'مائی نیم اِز خان (٢٠١٠ء) اَتے آوݨ آلا دور دا ڳائیکی ناٹک ہومن جہاں (٢٠١٥ء) شامل ہِن۔ سونیا رضوی کُوں اُنّھاں دے کرداراں کِیتے نگار ایوارڈ دے بہترین معاون اداکارہ کِیتے نامزد کِیتا ڳیا ہئی۔[1][2]
سونیا رضوی (ولادت: 24 اپریل 1980ء) جو اپنے فلمی نام سونیا جہاں سے مشہور ہیں، ایک پاکستانی فلمی اداکارہ ہیں جو بنیادی طور پر اردو اور ہندی زبان کی فلموں میں کام کرتی ہیں۔ سونیا جہاں نے متعدد پاکستانی ڈراموں، اشتہاروں اور بھارتی بالی وڈ فلموں میں کام کیا- سونیا معروف گلوکارہ نور جہاں اور فلمساز شوکت حسین رضوی کی پوتی ہیں۔ انہوں نے متعدد فلموں میں معاون کردار ادا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، ان میں فلم مائی نیم اِز خان (2010ء)، انگریزی زبان میں سیاسی فلم “دی ریلکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ” (2012ء) اور آنے والا دور کا میوزیکل ڈراما ہو من جہاں (2015ء) شامل ہیں۔ سونیا رضوی کو ان کے کرداروں کے لیے نگار ایوارڈ کے بہترین معاون اداکارہ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔[2][3]
ٻاہرلے روابط
بیرونی روابط
سونیا رضوی نے فلماں وِچ اداکاری تُوں اَن٘ج، ہِک تباخ شو وِچ بطورِ جج کَم کِیتا ہِے اَتے اُوہ کراچی دے فرانسیسی ریستوران، کیفے فلو دی مالکن ہِن۔ [1]
سونیا رضوی نے فلموں میں اداکاری کے علاوہ، ایک باورچی شو میں بطور جج کام کیا ہے اور وہ کراچی کے فرانسیسی ریستوراں، کیفے فلو کی مالکن ہیں۔[1]
سونیا جہاں ٢٤ اپریل ١٩٨٠ء کُوں پاکستان دے شہر کراچی وِچ ڄَمّے۔ اِنّھاں دے پِیؤ اکبر حسین رضوی کراچی وِچ رَہوݨ آلے ہِک کاروباری ہِن اَتے اِنّھاں دی اَمّاں سئیݨ، فلورنس رضوی ہِک فرانسیسی شہری ہِن۔ سونیا دا اصل ناں سونیا رضوی ہِے ڄاں جو اُنّھاں نے آپݨی ݙاݙی، مہان٘دری ڳائیکا نور جہاں دے اعزاز وِچ آپݨاں اَخِیرلا ناں بدل تے جہان کر ݙِتّا۔ اِنّھاں دا ہِک بِھرا ہِے، اِین٘دا ناں سکندر رضوی ہِے، جیڑھا فلمی اداکار ہِے۔ سونیا مہان٘درے فِلم ساز شوکت حسین رضوی دی پوتری، ڳائیکا ظل ہما دی بھݨین٘جی اَتے اداکار احمد علی بٹ دی پہلی کزن ہِن۔
سونیا جہاں 24 اپریل 1980ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ان کے والد اکبر حسین رضوی کراچی میں مقیم ایک کاروباری ہیں اور ان کی والدہ ، فلورنس رضوی ایک فرانسیسی شہری ہے۔ سونیا کا اصل نام سونیا رضوی ہے لیکن انہوں نے اپنی دادی، معروف گلوکارہ نور جہاں کے اعزاز میں اپنا آخری نام بدل کر جہان کر دیا۔ان کا ایک بھائی ہے ، اس کا نام سکندر رضوی ہے، جو فلمی اداکا رہے۔ سونیامعروف فلم ساز شوکت حسین رضوی کی پوتی ، گلوکارہ ظل ہما کی بھانجی اور اداکار احمد علی بٹ کی پہلی کزن ہیں۔
سونیا جہاں دی شادی ہِک ہندوستانی بینکر، ویویک نارائن نال 2005ء تھئی اَتے اُوہ بھارت دے دارالحکومت دلی وِچ رہن٘دی ہِے۔[1][2]
سونیا جہاں کی شادی ایک ہندوستانی بینکر، ویویک نارائن سے 2005ء میں ہوئی ہے اور وہ بھارت کی دار الحکومت دہلی میں رہائش پزیر ہیں۔[1][4] اس شادی سے سونیا کے دو بچے، ایک بیٹی نور اور ایک بیٹا نروان ہیں۔[4] سونیا اپنے شوہر ویوک کے ساتھ مل کر ایک کلب، کورم کی مالک ہیں، جس کی شاخیں گرو گرام اور ممبئی میں ہیں۔[5][6] سونیا ایک ریسٹورنٹ جس کا نام کوالسکی ہے، کی مالکن ہیں[7][8] اور وہ کراچی کے فرانسیسی ریستوراں، کیفے فلو کی بھی مالکن ہیں۔[2]
سال فلم کردار مزید 2005ء تاج محل: این ایٹیرنل لاو اسٹوری ممتاز محل 2007ء کھویا کھویا چاند رتن بالا 2010ء مائی نیم از خان حسینہ خان 2013ء دے ریلکٹینٹ فنڈیمینٹلسٹ نادیہ 2016ء ہو من جہان سبینہ 2017ء کپتان: دے میکنگ آف اے لیجینڈ عظمیٰ خانم 28 اپریل 2017ء کو منظرِ عام پر آئی[1]
سال فلم کردار مزید 2005ء تاج محل: این ایٹیرنل لاو اسٹوری ممتاز محل 2007ء کھویا کھویا چاند رتن بالا 2010ء مائی نیم از خان حسینہ خان 2013ء دے ریلکٹینٹ فنڈیمینٹلسٹ نادیہ 2016ء ہو من جہان سبینہ 2017ء کپتان: دے میکنگ آف اے لیجینڈ عظمیٰ خانم 28 اپریل 2017ء کو منظرِ عام پر آئی[9]
جدید مغربی نسائیت دی تریخ روایتی طور تے ترے ادوار یا "لہراں" وِچ ونڈائی وین٘دی ہِے، جِنّھاں وِچُوں ہر ہِک بیشتر پیشرفت دی بُݨیاد اُتے قدرے اَنج اَنج مقاصد دے نال ہِے: [1][2]
جدید مغربی نسائيت کی تاریخ روایتی طور پر تین ادوار یا "لہروں" میں تقسیم کی گئی ہے، جن میں سے ہر ایک بیشتر پیشرفت کی بنیاد پر قدرے مختلف مقاصد کے ساتھ ہے:[1][2]
نسائیت دی پہلی لہرنسائیت دی پہلی لہر]]، تُوں مراد پوری لَہن٘دی دُنیا وِچ اُن٘وِیہوِیں اَتے وِیہوِیں صدی وِچ نسائیت متعلقہ سرگرمیاں اَتے وِچاراں دا دور ہئی۔ اِیں تحریک دی بُݨیادی توجہ قانونی مسائل بݨیادی طور تے تِرِیمت دے حَق رائے دہی اُتے ہئی۔ نسائیت دی ݙُوجھی لہر(1960ء دی ݙہائی - 1980ء دی ݙہائی)، ثقافتی عدم مساوات، تِرِیمت دا کردار، اَتے معاشرے وِچ تِریمت دا کردار اُتے مباحث اِین٘دا حِصّہ ہَن۔ نسائیت دی تِرِیجھی لہر، (1980ء دے ݙہاکے - 2000ء دا ݙہاکا)، تُوں مراد نسائی سرگرمی دا متنّوع تناؤ، تِرِیجھی لہر آپ کُوں ݙُوجھی لہر دے تسلسل اَتے اُن٘دی ناکامیاں دے جواب دے طور تے ݙیہْدی ہِے۔ [1]
نسائیت کی پہلی لہر، سے مراد پوری مغربی دنیا میں انیسویں اور بیسویں صدی میں نسائیت متعلقہ سرگرمیوں اور خیالات کا دور تھا۔ اس تحریک کی بنیادی توجہ قانونی مسائل بنیادی طور پر خواتین کے حق رائے دہی پر تھی۔ نسائیت کی دوسری لہر، (1960ء کی دہائی–1980ء کی دہائی)، ثقافتی عدم مساوات، صنف کا کردار، اور معاشرے میں خواتین کا کردار پر مباحث اس کا حصہ تھے۔ نسائیت کی تیسری لہر، (1980ء کی دہائی -2000ء کی دہائی)، سے مراد نسائی سرگرمی کا متنوع تناؤ، تیسری لہر خود کو دوسری لہر کے تسلسل اور اس کی ناکامیوں کے جواب کے طور پر دیکھتی ہے۔[3]
نسائیت دی تَرِیخ، (History of Feminism) اِنّھاں تحریکاں اَتے نظریاتاں دے احوال (تَرِیخی یا موضوعی) اُتے مشتمل ہِے جین٘دا مقصد تِرِیمتاں دے ساجھے حقوق دا حصول ہِے۔ ڄاں جو دُنیا بھر دے نسائیتی دے اسباب، مقاصد اَتے ویلے اُتے منحصر ادارے، ثقافت اَتے دیس وِچ اَنج اَنج ہِن، زیادہ تر لَہن٘دی تِرِیمتی تریخ داناں نے زور ݙے تے آکھیا ہِے جو تِرِیمتاں دے حقوق دے حصول کِیتے کَم کرݨ آلے سبھے تحریکاں کُوں نسائی تحریکاں دے طور تے گِھنݨاں چاہِیدا ہِے، اِیہ تئیں جو جݙݨ اِنّھاں تحریکاں نے آپ اِیں اصطضاح کُوں آپݨے اُتّے لاڳو کِیتا (یا نئیں کِیتا)۔ کُجھ ٻئے تریخ دان نے جدید نسائی تحریک اَتے اُون٘دے بعد دے سبھے تحریکاں کِیتے "نسائیت" دی اصطلاح کُوں محدود کر ݙِتّا ہِے اَتے (نسائیت دی پہلی لہر) اِین٘دے تُوں پہلاں دی تحریکاں کُوں ݙَساوݨ کِیتے "ابتدائی نسائیت" (Protofaminism) دا مُکّھ پَنّاں استعمال کرین٘دے ہِن۔
نسائیت کی تاریخ، (History of feminism) ان تحریکوں اور نظریات کے احوال (تاریخی یا موضوعی) پر مشتمل ہے جس کا مقصد خواتین کے مساوی حقوق کا حصول ہے۔ جب کہ دنیا بھر کے نسائیتی کے اسباب، مقاصد اور وقت پر منحصر ارادے، ثقافت اور ملک میں مختلف ہیں، زیادہ تر مغربی نسائی مورخین نے زور دے کر کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے حصول کے لئے کام کرنے والی تمام تحریکوں کو نسائی تحریکوں کے بطور لینا چاہئے، یہاں تک کہ جب ان تحریکوں نے خود اس اصطلاح کو خود پر لاگو کیا (یا نہیں کیا)۔ کچھ دوسرے مورخین نے جدید نسائی تحریک اور اس کے بعد کی تمام تحریکوں کے لیے "نسائیت" کی اصطلاح کو محدود کردیا ہے اور (نسائیت کی پہلی لہر) اس سے قبل کی تحریکوں کو بیان کرنے کے لیے "ابتدائي نسائیت" (Protofeminism) کا عنوان استعمال کرتے ہیں۔
ٻاہرے رابطے
بیرونی روابط
2014ء میں بوداپست، رومانیہ وِچ فائنس ونکی دے تھاں ویچݨ کِیتے آئے پئے ہِن۔
2014ء میں بوداپست، رومانیہ میں فائنس قسم کے برتن برائے فروخت
انگلستان دے یپو کٹھ دا پَتھراں دیاں مورتیاں۔ سال 1745ء، 7 1/2
انگلستان کا یپو گروپ کا پتھروں کی مورتیاں۔ سال 1745ء، 7 1/2 × 8 3/8. (19.1 × 21.3 cm
لوک فن (انگریزی: Folk art) تُوں مراد لوک کہاݨی دے پس منظر وِچ بݨائے ون٘ڄݨ آلا سبھے وَنکیاں دا بصری فن پارہ ہِے۔ اِیکُوں کئی طرح نال متعارف کرایا ون٘ڄ سڳدا ہِے۔ جاں جو اِیہ سجاوٹی فن تُوں قدرے مختلف ہِے اَتے لوک تُوں کہِیں ناں کہِیں طرح مشابہت رکھین٘دا ہِے۔ لوک فن دے ماہرین روایتی طور تے کہِیں خاص علاقے یا قبیلے دے تربیّت یافتہ ہون٘دے ہِن جاں جو فنونِ لطیفہ دے ماہرین ثقافتی رِیت دے پروردہ ہون٘دے ہِن۔ لوک فن اَتے غیر روایتی فن کݙان٘ہِیں کݙان٘ہیں ہِک ݙوجھے کِیتے استعمال تِھین٘دے ہِن جاں جو روایتی سماج وِچ جِتّھاں قبائلی فن ہُݨ وِی لوکاں کُوں بھان٘دہ ہِے، اُتّھاں غیر روایتی فن اِی استعمال تِھین٘دا ہِے۔
لوک فن (انگریزی: Folk art) سے مراد لوک کہانی کے پس منظر میں بنائے جانے والا تمام طرح کا بصری فن پارہ ہے۔ اسے کئی طرح سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سجاوٹی فن سے قدرے مختلف ہے اور لوک سے کسی نا کسی طرح مشابہت رکھتا ہے۔ لوک فن کے ماہرین روایتی طور پر کسی خاص علاقہ یا قبیلہ کے تربیت یافتہ ہوتے ہیں جبکہ فنون لطیفہ کے ماہرین ثقافتی روایت کے پروردہ ہوتے ہیں۔ لوک فن اور غیر روایتی[1] فن کبھی کبھار ایک دوسرے کے لیے استعمال ہوتے ہیں مگر روایتی سماج میں جہاں قبائلی فن اب بھی لوگوں کی پسند ہے، وہاں غیر روایتی فن ہی مستعمل ہے۔
لوک فن دے خاصیّتاں
لوک فن کی خصوصیات
لوک فن دے فن پارے مادی خاصیتاں دے حامل ہون٘دے ہِن۔ اِنّھاں کُوں ہَتّھ لایا، بَھنّیا اَتے محسوس کِیتا ون٘ڄ سڳین٘دا ہِے۔ اِنّھاں کُوں وَل وَل استعمال وِی کِیتا ون٘ڄ سڳین٘دا ہِے۔ کہِیں موجود شے وِچ تکنیکی صلاحیّتاں دا استعمال کر تے اِیکُوں سوہݨاں بݨاوݨ ہِی فنی کَم اَکھوِین٘دا ہِے۔ اَتے اِیہو اِی لوک فن ہِے۔ اِین٘دے تَل کُوں نقشاں تے نگاراں نال سوہݨاں کرݨ، اِین٘دی چِمکار وِچ وَدھارا کرݨ اَتے پہلاں تُوں موجود کہِیں فنی شے کُوں ٻِیا سن٘وارݨ لوک فن دی خاصیّتاں وِچ شامل ہِے۔ کیوں جو لوک فن وِچ ٻہوں خاصیّتاں ہون٘دیاں ہِن اِیں کِیتے اِیہ کہِیں ݙوجھے سبھے مادی ثقافت تُوں اصلُوں اَنج اَنج ہون٘دے ہِن۔
لوک فن کے فن پارے مادی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ انہیں چھوا، توڑا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انہیں بار بار استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ کسی موجود شے میں تکنیکی صلاحیتوں کا استعمال کر کے اسے خوبصورت بنانا ہی فنی کام کہلاتا ہے اور یہی لوک فن ہے۔ اس کی سطح کو نقش و نگار سے مزین کرنا، اسی چمک میں اضافہ کرنا اور پہلے سے موجود کسی فنی شے کو مزید نکھارنا لوک فن کی خصوصیات میں شامل ہے۔[2] چونکہ لوک فن میں کئی خصوصیات ہوتی ہیں اسی لیے یہ کسی دوسرے تمام مادی ثقافت سے باکل مختلف ہوتے ہیں۔
مادے، وَنکیاں اَتے دستکاری
مادے، انواع اور دستکاری
لوک فن اَن٘ج اَن٘ج حُجم، شِکّل اَتے ونکیاں دے ہون٘دے ہِن۔ اِنّھاں وِچ ورتے ون٘ڄݨ آلے مادے علاقائی طور تے ڄاݨ سُن٘ڄاݨے ہون٘دے ہِن۔ تَلّے کُجھ روز ݙیہاڑے ورتِیڄݨ آلے لوک فن دی وَنکیاں ہِن۔
لوک فن مختلف حجم، شکل اور نوع کے ہوتے ہیں۔ ان میں استعمال ہونے والے مادےعلاقائی طور پر جانے پہچانے ہوتے ہیں۔ درج ذیل کئی قسم کے روز مرہ میں استعمال ہونے لوک فن کی اقسام ہیں۔[3]
فنونِ لطیفہ
فنون لطیفہ
لوک مذہب (انگریزی: Folk religion) منظم دین تُوں وَکھ مذہب دی ہِک وَنکی ہِے جین٘دے وِچ نسلیتدا پہلو غالب ہون٘دا ہِے۔ ڄاں جو مہان٘دریاں دے آپت وِچ اِین٘دی تعریف وِچ خاصا جھیڑا پاتا وین٘دا ہِے جاں جو اِیہ مذہب دا اِی حِصّہ ہِے۔ [1] لوک مذہب دے مطالعے کُوں متعلق جاں جو مابکل اَن٘ج اَن٘ج موضوعاں اُتّے محیط ہِے۔ پہلاں اِیہ جو لوک مذہب وِچ لوک کہاݨی، لوک ثقافتدا کیا عمل دخل ہِے۔ اَتے ݙُوجھا ہِکّے اِی مذہب دے امتزاج ضدیندا مطالعہ ہِے جیویں: افریقی لوک عقائد اَتے کاتھولک کلیسا جِنّھاں دی وجہ کنُوں وڈوو اَتے سانتیریہ وجود وِچ آئے۔ این٘دے تُوں اَن٘ج ٻِنّھاں ثقافتاں اَتے امتزاج ضدین دی وَدھ مثالاں موجود ہِن۔ چینی لوک مذہب، لوک عیسائیت، لوک ہندومت، لوک اسلامکُجھ اِیجھیاں مِثالاں ہِن جو اصل مذہب اَتے بݨیادی کڑی تُوں متعلق ہِن جاں جو آپݨی ہِک مستقل سُن٘ڄاݨ وِی رکھین٘دیاں ہِن۔ لوک مذہب دا اطلاق اِیہو جئیں عقیدیاں اُتّے وی تِھین٘دا ہِے جین٘دے وِچ اصل مذہب اَتے سماج دے طریقے تُوں ہَٹ تے طریقۂ عبادتاختیار کِیتا وین٘دا ہِے اَتے عموم تُوں آپݨی سُن٘ڄاݨ وَکھ رَکّھی وین٘دی ہِے۔ جِیویں: مذہبی پرنیوا، تجہیز اَتے تکفین دے رِیتاں یا جِیویں: عیسائیت وِچ ٻالاں دا بپتسمہکرواوݨ وغیرہ۔
لوک مذہب (انگریزی: Folk religion) منظم دین سے الگ مذہب کی ایک قسم ہے جس میں نسلیت کا پہلو غالب ہوتا ہے۔ حالانکہ ماہرین کے مابین اس کی تعریف میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے مگر یہ مذہب کا ہی حصہ ہے۔[1] لوک مذہب کا مطالعہ کو متعلق مگر مابکل مختلف موضوع پر محیط ہے۔ اول یہ کہ لوک مذہب میں لوک کہانی، لوک ثقافت کا کیا عمل دخل ہے۔ اور دوسرا ایک ہی مذہب کے امتزاج ضدین کا مطالعہ ہے مثلاً افریقی لوک عقائد اور کاتھولک کلیسا جن کی وجہ سے وڈوو اور سانتیریہ وجود میں آئے۔ اس کے علاوہ دیگر مذاہب اور ثقافتوں میں امتزاج ضدین کی متعدد مثالین موجود ہیں۔ چینی لوک مذہب، لوک عیسائیت، لوک ہندو مت[ لوک اسلام کچھ ایسی مثالیں ہیں جو اصل مذہب اور بنیادی کڑی سے متعلق ہیں مگر اپنی ایک مستقل شناخت بھی رکھتی ہیں۔ لوک مذہب کا اطلاق ایسے عقائد پر بھی ہوتا ہے جس میں اصل مذہب اور سماج کے طریقے کے ہٹ کر طریقہ عبادت اختیار کیا جاتا ہے اور عموم سے اپنی شناخت الگ رکھی جاتی ہے۔ مثلاً مذہبی شادی، تجہیز و تکفین کے رسوم یا مثلاً عیسائیت میں بچوں کا بپتسمہ کروانا وغیرہ۔[1]
ماہرین اَتے سکالراں نے لوک عیسائیت دی کئی طرحاں نال سُن٘ڄاݨ کرائی ہِے؛ "مفتوح قوم دا عیسائیت اُتے عمل کرݨ"[1] کُجھ لوک اِیکُوں "مسیحی اِلٰہیات اَتے غیر اِلٰہیات دے آپت وِچ مسیحیت دی وَن٘ݙ کرݨ تُوں ٻچاوݨ کِیتے وی ہِک طریقہ ݙَسین٘دے ہِن۔“[2] مسیحیت اُتے قوم در قوم جغرافیائی اعتبار نال اَنج اَنج طریقیاں اُتے عمل تِھین٘دا ہِے۔ اِیہو جئیں کئی جغرافیائی مسیحی جَتّھے موجود ہِن۔[3] کُجھ مسیحیت دا “[4] اِلٰہیات یا تاریخ مسیحیت تُوں کوئی ݙیوݨ گِھنَّݨ کائے نِیں“[5]
ماہرین اور اسکالر نے لوک عیسائیت کئی طرح سے متعارف کروایا ہے؛ “مفتوح قوم کا عیسائیت پر عمل کرنا“[2] بعض لوگ اسے ‘‘ مسیحی الٰہیات اور غیر الیہات کے مابین مسیحیت کو تقسیم کرنے سے بچانے کے لئے بھی ایک طریقہ بتاتے ہیں۔“[3] مسیحیت پر قوم در قوم جغرافیائی اعتبار سے مختلف طریقوں پر عمل ہوتا ہے۔ ایسے کئی جغیافیائی مسیحی گروہ موجود ہیں۔[4] بعض مسیحیت کا “[5]الہیات یا تاریخ مسیحیت سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔“[6]
لوک اِسلام ہِک ٻہوں ہِی جامع لوّظ ہِے جین٘دے وِچ قبائلی طور تے منقسم مسلمان شامل ہِن جِنّھاں دے اسلامی عملاں اُتّے جُغرافیائی جھلک صاف ݙکھالی ݙین٘دی ہِے۔[1] لوک اِسلام دا اطلاق عام طور تے ٻِیلے، غریب، خانہ بدوش اَتے دیس بدر لوکاں اَتے قبیلیاں دے اسلام تُوں دوری نال ہون٘دا ہِے۔[2] اَتے اِیہ اصل اِسلام یا عمومی اسلام تُوں کُجھ حد توڑِیں وَکھ ہِے۔[3] تصوف کُوں لوک اسلام وِچ رلایا وین٘دا ہِے۔ تَلّے ݙِٹّے ڳئے کُجھ عقیدے لوک اِسلام وِچ سمجھے وین٘دے ہِن:
لوک اسلام ایک بہت ہی جامع لفظ ہے جس میں علاقائی طور منقسم مسلمان شامل ہیں جن کے اسلامی اعمال پر جغرافیائی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔[7] لوک اسلام کا اطلاق عموما کمزور، غریب، خانہ بدوش اور شہر بدر لوگوں اور قبیلوں کے اسلام سے پتر ہوتا ہے۔[8] اور یہ اصل اسلام یا بنیادی اسلام یا عمومی اسلام سے کچھ حد تک الگ ہے۔[9] تصوف کو لوک اسلام میں شامل کیا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل عقائد لوک اسلام میں تصور کیے جاتے ہیں؛
روایتی جادوگری اَتے وجد دے رِیتاں[1][2] مزارات اَتے رقیہ[3] بزرگاں اَتے جِنّاں دا تصور[4][5] روحانیت دا تصور اَتے رِیتاں [6]
روایتی جادوگری اور وجد کی رسومات[10][11] مزارات اور رقیہ[12] بزرگوں اور جن کا تصور[13][14] روحانیت کا تصور اور رسومات[15]
کورتیننک - ہنگری دی لوک جُھمّر آشوری قوم دی کھگّا جُھمِّر تیولوری جُھمِّر دا انداز کاتالونیا دی ݙانڳ آلی جُھمِّر قبرص دی لوک جُھمٌِر
کورتیننک - ہنگری کا لوک رقص Kyushtdepdi آشوری قوم کا کھگا رقص۔ تیولوری کاتالونیا کا عصا رقص، بال دی باسٹن قبرص کا لوک رقص پافوس مقدونیہ کا نسوانی لوک رقص پودھلے رقص روایتی روسی لوک رقص
ارجنٹائن دی لوک جُھمِّر ملامبو
ارجنٹائن کا لوک رقص ملامبو
بلنسیہ دی رِیتی جُھمِّر
بلنسیہ کا روایتی رقص
لوک جُھمِّر (انگریزی: Folk dance) جُھمِّر دی اُوہ ونکی ہِے جین٘دے وِچ کہِیں خاص علاقے یا قبیلے دی رِیت دی عکاسی تِھین٘دی ہِے۔ اِیں نِھیں جو سبھے قبائلی جُھمراں لوک جُھمِّر دے زُمرے وِچ آن٘دے ہووِن۔ مثلًا رِیتی جُھمِّر، لوک جُھمِّر دی ونکی وِچ شامل کائے نِیں۔ رِیتی جُھمِّڑ کُوں عام طور تے مذہبی جُھمِّر آکھیا وین٘دا ہِے جاں جو اِین٘دا ہِک خاص مقصد ہِے۔ جاں جو اِیں جُھمِّر وِچ ڄیکر ثقافت دا عکس ہووے تاں اِیکُوں نسلی یا رِیتی جُھمِّر آکھیا وین٘دا ہِے۔ اِیں تعلّق نال سبّھے لوک جُھمراں نسلی جُھمراں اَکھوِین٘دیاں ہِن۔ کُجھ جُھمراں نسلی حدود بلکہ لوک حدّاں تُوں نِکل وین٘دیاں ہِن۔ جین٘ویں: پولکا، اِیہو جئیں صورت وِچ نسلی خصوصیتاں کُوں ڳِݨݨ ٻہوں سَوکھا تِھی وین٘دا ہِے اَتے اِیکُوں نسلی جُھمِّر وِی آکھیا وین٘دا ہِے۔
لوک رقص (انگریزی: Folk dance) رقص کی وہ قسم ہے جس میں کسی خاص علاقہ یا قبیلہ کی ثقافت کی عکاسی ہوتی ہے۔[1] ایسا نہیں ہے کہ تمام قبائلی رقص لوک رقص کے زمرے میں آتے ہیں۔ مثلاً رسمی رقص لوک رقص کی قسم میں شامل نہیں ہے۔ رسمی رقص کو عموما مذہبی رقص کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔ مگر اسی رقص میں اگر ثقافت کا عکس پایا جائے تو اسے نسلی یا روایتی رقص کہا جاتا ہے۔ اس تعلق سے تمام لوک رقص نسلی رقص کہلاتے ہیں۔ کچھ رقص نسلی حدود بلکہ لوک حدود سے نکل جاتے ہیں جیسے پولکا، ایسی صورت میں نسلی خصوصیات کو شمار بہت آسان ہوجاتا ہے اور اسے نسلی رقص ہی کہا جاتا ہے۔
پِچھوکڑ حال
پس منظر
لوک جُھمِّر وِچ تَلّے ݙِتّے ڳئے سبّھے یا کُجھ خاصیتاں ہون٘دیاں ہِن:
لوک رقص مندرجہ ذیل تمام یا چند خصوصیات ہوتی ہیں؛
سبّھے جُھمّر مارݨ آلے کہِیں تربیّت توں اَنج کہِیں وی سماجی تقریب دے موقع تے کٹّھے تِھین٘دے ہِن اَتے روایتی موسیقی اُتے نَچدے ہِن۔ جُھمر مارݨ آلے عام طور تے کہِیں سٹیج تے نئیں وین٘دے جاں جو بعد وِچ اُنّھاں کُوں کہِیں سٹیج یا کہِیں خاص پروگرام وِچ سَݙّا ون٘ڄ سڳین٘دا ہِے۔ لوک جُھمّر وِچ کوئی نواں بدلاوا یا تخلیق نئیں ہون٘دی جاں جو اِنّھاں وِچ اَنج اَنج بین الاقوامی ثقافت دی جھلک ݙکھالی ݙین٘دی ہِے۔ نویں جُھمّر مارݨ آلے ٻِنّھاں کُوں ݙیکھ تے سِکّھ وین٘دے ہِن اَتے اُنّھاں کُوں کوئی رسمی تربیّت دی لوڑ نئیں ہون٘دی۔
تمام رقاص بنا کسی تربیت کے کسی سماجی تقریب کے موقع جمع ہوتے ہیں اور روایتی موسیقی پر ناچتے ہیں۔ رقاص عموما کسی اسٹیج کا نہیں جاتے گوکہ بعد میں انہین اسٹیج یا کسی خاص پروگرام میں مدعو کیا جا سکتا ہے۔ لوک رقص میں کوئی نیا بدلاو یا تخلیق نہیں ہوتی ہے بلکہ ان میں مختلف بین الاقوامی ثقافت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ نئے رقاص دوسروں کو دیکھ کر سیکھ جاتے ہیں اور انہیں کسی رسمی تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
جُھمِّر لوک فن
رقص لوک فن
بنگلہ دیشی لوک ادب (بنگلہ: বাংলা লোক/পল্লী সাহিত্য) بنگالی ادب دا ہِک حِصّہ ہِے۔ اَدب دا اِیہ حِصّہ پڑھے لِکّھے قبائلی لوکاں دی کاوِشاں دا نتیجہ ہ،ے جیڑھا تقریری شِکّل وِچ نسل در نسل منتقل تِھین٘دا رِیہا ہِے اَتے بنگالی ادب دا ایرا بݨدا رِیہا ہِے۔ اَغاز وِچ انفرادی ادب تُوں اِین٘دا اغاز تِھیا جاں جو وَقتی اِی اجتماعیت نے اِین٘دی جاء گِھن گِھدّی اَتے اِیہ ثقافت، جذبیاں، وِچاراں تُوں ہم آہنگ تِھی ڳیا۔ جین٘ویں جِین٘ویں لوک ادب تُوں ترقّی تھئی، اُون٘ویں اُون٘ویں اِیہ قبیلے اَتے سماج دا ترجمان بݨدا ڳِیا۔
بنگلہ دیشی لوک ادب (بنگلہ: বাংলা লোক/পল্লী সাহিত্য) بنگالی ادب کا ایک حصہ ہے۔ ادب کا یہ حصہ پڑھے لکھے قبائلی لوگوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جو تقریری شکل میں نسل در نسل منتقل ہوتا رہا اور بنگالی ادب کی بنیاد بنتا رہا۔ ابتدا میں انفرادی ادب سے اس کا آغاز ہوا مگر جلد ہی اجتماعیت نے اس کی جگہ لے لی اور یہ ثقافت۔ جذبات، خیال سے ہم آہنگ ہوگیا۔ جیسے جیسے لوک ادب سے ترقی کی، ویسے ویسے یہ قبیلے اور سماج کی ترجمان بنتا گیا۔
ترِیجھی صدی عیسوی تُوں یکّے بعد دیگرے موریہ، گپتا، پال، سینا اَتے مسلماناں نے اِیں بھوئیں اُتے حکومت کِیتی اَتے ہر ہِک نے علاقہ دے قبائلی لوکاں اُتّے آپݨاں ثقافتی اثر چھوڑیا۔ نویں زمانے وِچ پرتگالی، فرانسیسی اَتے انگریزی جہاز خلیف بنگال وِچ لنگر انداز تَھئے۔ اُنّھاں نے جاں جو تجارتی مقصد نال اِݙُّوں دا رُخ کِیتا جاں جو آپݨے شئیں دے نال نال آپݨی ثقافت اَتے زبان دا وی ݙے گِھن کِیتا۔ بنگال وِچ آوݨ آلے سبھے لوکاں نے بنگال کُوں آپݨی ثقافت اَتے ٻولی نال متأثر کِیتا۔
تیسری صدی عیسوی سے یکے بعد دیگرے موریہ، گپتا، پال، سینا اور مسلمانوں نے اس سرزمین پر حکومت کی اور ہر ایک نے علاقہ کے قبائلی لوگوں پر اپنی ثقافتی چھاپ چھوڑی۔ نئے زمانہ میں پرتگالی، فرانسیسی اور انگریزی جہاز خلیج بنگال میں لنگر انداز ہوئے۔ انہوں نے گوکہ تجارتی مقصد سے ادھر کا رخ کیا مگر اپنی اشیاء کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت اور زبان کا بھی لین دین کیا۔ بنگال میں آنے والے تمام لوگوں نے بنگال کو اپنی ثقافت اور زبان سے متاثر کیا۔
زبانی اَدب اَتے اُون٘دا اثر
زبانی ادب اور اس کا اثر
لوک ادب عام طور تے زبانی ورثہ ہون٘دا ہِے اَتے اِیں کِیتے اِین٘دا دارومدار لوکاں دی یاد داشت اُتے منحصر ہِے۔ اِین٘دی ٻولی اَتے طریقہ ٻہوں خاص ہون٘دا ہِے۔ بنگالی لوک ادب وِچ اَنج اَنج ونکیاں دی اساطیری شاعری، ناٹک، لوک کہاݨی اَتے اکھاݨ موجود ہِن۔ بنگلہ دیشی لوک ادب وِچ خاص طور تے کئی اَنج اَنج ونکیاں دے رِیتاں اَتے تہذیباں دا اثر مِلدا ہِے جاں جو پُراݨے زمانے وِچ حال قریب تئیں اُتّھاں کئی نسل دے لوک اَباد رِیہے ہَن۔ موجودہ دور وِچ بنگلہ دیش دا لوک ادب ٻہوں اَوکھا اَتے متعدد عناصر دا کٹھ ہِے جِیکُوں مہان٘درے مؤرخین اِی تفصیل نال ݙَسا سڳدے ہِن۔
لوک ادب عموما زبانی روثہ ہوتا ہے اور اسی لئے اس کا دارو مدار لوگوں کی یادداشت پر منحصر ہے۔ اس کی زبان اور طریقہ بہت مخصوص ہوتا ہے۔ بنگالی لوک ادب میں متعدد طرح لی اساطیری شاعری، شاعری، ڈراما، لوک کہانی اور کہاوتیں موجود ہیں۔ بنگلہ دیشی لوک ادب میں بالخصوص کئی مختلف طرح کی روایتوں اور تہذیبوں کا اثر ملتا ہے کیونکہ زمانہ ماضی سے حال قریب تک وہاں کئی نسل کے لوگ آباد رہے ہیں۔ موجودہ دور میں بنگلہ دیش کا لوک ادب بہت پیچیدہ اور متعدد عناصر کا مجموعہ ہے جسے ماہر مورخین ہی تفصیل سے بیان کر سکتے ہیں۔
لوک ادب دے عناصر
لوک ادب کے عناصر
لوک ادب وِچ کہاݨیاں، نغمے، موسیقی، بلاڈ، اکھاݨ، جاں جو مکرنیاں، ٻُجھارتاں، رموز، اساطیری کہاݨیاں اَتے توہم پرستی شامل ہِن۔
لوک ادب میں کہانیاں، نغمے، موسیقی، بلاڈ، کہاوتیں، کہ مکرنیاں، پہلیاں، رموز، اساطیری کہانیاں اور توہم پرستی شامل ہیں۔
لوک موسیقی اَتے ڳاوݨے
لوک موسیقی اور نغمے
بنگالی لوک موسیقی دی بُݨیاد شاعری اُتے ہِے جین٘دے وِچ آلۂ موسیقی دا استعمال گَھٹ ہون٘دا ہِے۔ کلاسیکی لوک نغمیاں کُوں سَت حِصّیاں وِچ ونڈایا ون٘ڄ سڳدا ہِے: محبت، رِیت، فلسفیانہ عقائد، کَم کاج، پیشہ تے قبضہ، طنز تے مزاخ وِی رَلّے ہوئے ہِن۔
بنگالی لوک موسیقی کی بنیاد شاعری پر ہے جس میں آلہ موسیقی کا استعمال کم ہوتا ہے۔ کلاسیکی لوک نغموں کو 7 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: محبت، روایتی، فلسفیانہ وعقیدہ، کام کاج، پیشہ وقبضہ، طنز و مزاح اور ملا ہوا۔